8 January 2026
۱۴۰۴/۰۵/۱۵- ۱۷:۳۴

غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنے اور امدادی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں غزہ میں جاری صیہونی ظلم و بربریت کے حوالے سے لکھا:

جدید ترین و ملک ترین امریکی و جرمن ہتھیاروں کے ذریعے فدک وقت فلسطین کے لوگوں کا قتل عام بھی جاری ہے اور ساتھ ساتھ انہیں غذائی ضروریات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے اور وہ بھوک کی شدت سے مر رہے ہیں۔ کھانے کی تقسیم کی لائنیں موت کا گھاٹ بن چکی ہیں اور مریض دوائیوں کی عدم دستیابی اور بھوک کی وجہ سے موت سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔

یہ سب غزہ میں پچھلے دو سال سے جاری دہشت گردی، وحشتناک بمباری اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کا نتیجہ ہے جس کے سبب زخمیوں سمیت دو لاکھ سے زائد افراد لقمہ اجل بنے چکے ہیں اور غزہ کی پٹی کا نوے فیصد حصہ زندگی کے قابل نہیں رہا۔

عالمی‌برادری کو چاہیے کہ وہ فضول قسم کے بیانات دینے سے گریز کرے اور غزہ کے عوام کی فلاح و بہبود اور اس نسل کشی کو روکنے کی غرض سے عملی اقدامات انجام دے۔ ضروری ہے کہ نسل کشد کی مرتکب اس صیہونی ریاست کے اسلحے کے استعمال پر پابندی لگائی جائے اور اس ظالم ریاست کو عدل و انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

متن دیدگاه
نظرات کاربران
تاکنون نظری ثبت نشده است

امتیاز شما