7 April 2025
۱۴۰۳/۱۱/۲۰- ۰۹:۰۸

کراچی میں معروف ایرانی آرٹسٹ استاد عبدی کے لکڑی سے بنےفن پاروں کی "لکڑی کا جادو" نامی نمایش کا انعقاد

عشرہ فجر کی مناسبت سے پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں واقع پاکستان آرٹس کونسل میں معروف ایرانی آرٹسٹ استاد پرویز عبدی کے لکڑی ، چکنی مٹی، شیشے اور قیمتی پتھروں سے خلق کردہ فن پاروں کی نمائش منعقد ہوئی۔

اس نمائش کی افتتاحی تقریب سات فروری ۲۰۲۵ کو منعقد ہوئی جس میں صوبہ سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی، سابق صوبائی وزیر اور آرٹس کونسل آف پاکستان کے سربراہ محمد احمد شاہ کے ساتھ ساتھ کراچی میں جمہوری اسلامی ایران کے قونصل جنرل جناب حسن نوریان نے بھی شرکت کی۔

جناب حسن نوریان نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی چھیالیسویں سالگرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فنون لطیفہ کو ثقافت و تمدن کے تبادلے کا  ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ: آرٹسٹ پرویز عبدی نے اپنی سوچ و فکر کے اظہار کے لیے فن و مہارت کا سہارا لیا ہے اور ان کے فن پاروں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کتنے نفیس بشری احساسات کے مالک ہیں۔

انہوں نے کہا: فنون لطیفہ کی انفرادیت ہی یہی ہے کہ وہ زبان، ثقافت اور وقت کی دیواروں کو پھلانگ کر بلاواسطہ ہم سے مخاطب ہوتے ہیں ، ہمارے افکار و نظریات کو آئینے کے سامنے لاتے ہیں اور ہمیں شوق دلاتے ہیں کہ ہم فنون لطیفہ کی طرف رجحان پیدا کریں۔

جناب نوریان نے مزید کہا: اس نمائش میں موجود ہر فن پارہ  کینوس اور لکڑی پر رنگوں کے امتزاج سے کہیں بڑھ کر ایسی داستان و احساسات کا عکاس ہے جس سے اس آرٹسٹ کی جہان رنگ و بو کے متعلق فکر و نظر کا پتہ ملتا ہے۔

صوبہ سندھ کے وزیر بلدیات جناب سعید غنی نے اس  نمائش کے انعقاد کے حوالے سے کراچی میں ایرانی قونصل خانے کا شکریہ ادا کیا کہ اس اقدام کی بدولت فنون لطیفہ سے شغف رکھنے والے لوگ اس ایرانی آرٹسٹ کے فن پاروں سے محظوظ ہو پائے ہیں۔ انہوں نے اس ایرانی آرٹسٹ کو بڑے خوبصورت الفاظ میں خوش آمدید کہا اور ان کے فن پاروں کو سالہاسال کے تجربے و عرق ریزی کا نتیجہ قرار دیا۔

لکڑی  پر نفیس نقش و نگار خلق کرنے کا فن ایک منفرد سی دستکاری ہے جو فن اور مہارت کا حسین امتزاج ہے اور سرزمین ایران کے کونے کونے میں مختلف فنکار اس میں مشغول ہیں۔ استاد پرویز عبدی بھی انہی میں سے ایک ہیں جو پچھلے ۴۵ سال سے لکڑی کی مدد سے لطیف و نفیس فن پارے خلق کررہے ہیں۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی میں ایران قونصل خانہ کے تعاون سے آرٹس کونسل آف پاکستان میں اسی فن دستکاری کے حوالے سے ایک ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں استاد عبدی نے اپنے نایاب تجربات سامعین کے گوش گزار کیے اور پاکستانی طلاب فنون لطیفہ سے خوب داد وصول کی۔

متن دیدگاه
نظرات کاربران
تاکنون نظری ثبت نشده است

امتیاز شما